28 اگست 2025 - 22:39
سید عبدالملک الحوثی کے تقریر کے دوران صنعاء پر صہیونیوں کی شدید بمباری

یمنی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ صنعاء میں صہیونی ریاست کی فضائی حملے کے بعد مسلسل اور شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یمن کا المسیرہ نیٹ ورک نے جمعرات کو کو اطلاع دی ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء شہر میں کم از کم 10 دھماکوں کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

یمنی ذرائع کے مطابق، یہ حملے شہر کے مختلف مقامات پر کیے گئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ صنعاء کے جنوب میں واقع "جبل عطان" کا علاقہ اس حملے کا سب سے اہم ہدف تھا۔

صہیونی چینل i14 نے بھی رپورٹ دی کہ اس ریاست کی فوج نے یمن پر شدید اور غیر معمولی حملے کیے ہیں۔

یہ فضائی حملہ سید عبدالملک الحوثی کی ہفتہ وار تقریر کے دوران ہؤا۔

اسی دوران صہیونی چینل i12 سے بات چیت میں ایک صہیونی ذریعے سے دعویٰ کیا کہ اس حملے کا مقصد یمنی سیاسی رہنماؤں کو قتل کرنا تھا اور اس قتل کی منصوبہ بندی اس ہفتے فوج میں منظور ہوئی تھی اور نیتن یاہو نے اس کی اسے حتمی منظوری دی۔

صہیونی چینل i14 نے بھی دعویٰ کیا کہ انصارالله کے کئی رہنما اس مقام پر موجود تھے جو نشانہ بنایا گیا۔

عبرانی نیٹ ورک کان نے بھی رپورٹ دی کہ حملوں کا مقصد فوجی کمانڈروں اور یمنی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کا قتل تھا۔ اس نیٹ ورک کے دعوے کے مطابق، فضائی حملے نے یمنی سینئر کمانڈروں کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔

غاصب اسرائیلی حکومت کی صنعاء پر جارحیت اس وقت ہوئی ہے جب یروشلم پوسٹ اخبار کے اعتراف کے مطابق، اس حکومت کے فوجی افسران نے اس قسم کے حملوں کی بے فائدہ اور لاحاصل ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیل میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ "حوثیوں کے مسئلے" کا کیا کیا جائے۔

آج سید عبدالملک الحوثی نے اپنی ہفتہ وار تقریر میں یمن پر صہیونی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ہمارے ملک پر اسرائیل کی جارحیت ناکام ہو چکی ہے؛ انہوں نے بجلی گھروں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا لیکن ان حملوں کا نتیجہ ان کے لئے رسوائی کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ دشمن یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ تمام یمنی عوام کو نشانہ بنا دے گا۔

انھوں نے زور دے کر کہا: ہمارے ملک کا موقف عوامی سطح پر ہو یا سرکاری سطح پر، جاری ہے اور اس راستے پر چل رہا ہے جو مزید فوجی صلاحیتوں اور بڑے اور مضبوط تر کاروائیوں کے لئے راستہ ہموار کرے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha